کاروار 27 / اکتوبر (ایس او نیوز) ماروتی نائک نامی ایک دلت ایکٹیوسٹ کی خود کشی کے پس منظر میں ایک انسپکٹر ، ایک سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل کو معطل کر دیا گیا ہے ۔
خیال رہے کہ ماروتی نائک نے خود کشی سے قبل ایک ڈیتھ نوٹ چھوڑا تھا جس میں اپنی خودکشی کے لئے غیر ہندو دلت لیڈر ایلیشا ایلاکاپتی کے علاوہ پولیس اہلکاروں کو ذمہ دار قرار دیا تھا ۔
ماروتی نے تین صفحات کے ڈیتھ نوٹ میں لکھا تھا کہ جب اس نے ایلیشا ایلاکاپتی نامی غیر ہندو دلت لیڈر کی طرف سے ہندو دیوی دیوتاوں کی تضحیک کرتا ہوا ویڈیو ریکارڈ کیا اور اس کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا ۔
ماروتی کا کہنا تھا کہ کاروار کے دیہی سرکل انسپکٹر کسومادھارا، پی ایس آئی شانتی ناتھ ، کانسٹیبل دیواراج اور دیگر پولیس اہلکاروں نے اسے ہراساں کیا ۔ اسے بار بار پولیس اسٹیشن طلب کرکے مارا پیٹا گیا ۔ اور یہ سب پولیس اور ایلاکاپتی کی ساز باز سے ہوا ۔
اس ہراسانی کی وجہ سے تنگ آ کر ماروتی نے خود کشی کرلی تو پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کے ساتھ ماروتی کے گاوں شیرواڈ کے لوگوں نے احتجاجی مظاہرا کیا ۔ بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ ماروتی نے پولیس اہلکاروں کو اپنی موت کی وجہ بتاتے ہوئے ایک ویڈیو کلپ بھی ریکارڈ کیا تھا ۔
انکولہ کاروار حلقہ کے ایم ایل اے ستیش سائل نے بھی اعلیٰ پولیس افسران نے اس معاملے کی تحقیقات اور خاطی پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی مانگ کی تھی ۔ جس کے بعد ان پولیس اہلکاروں کی معطلی کے احکام جاری کیے گئے ۔